حلال جانور کو بہ نیتِ تقرب ذبح کرنے کی تارِیخ حضرت آدَم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل وقابیل کی قربانی سے ہی شروع ہوجاتی ہے، یہ سب سے پہلی قربانی تھی، حق تعالیٰ جلَّ شانُہ کا اِرشاد ہے:
”وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ اِذْقَرَّ بَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِھِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ“۔ترجمہ:۔”اور آپ اہلِ کتاب کو آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ صحیح طور پر پڑھ کر سنا دیجیے، جب ان میں سے ہرایک نے اللہ کے لیے کچھ قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی مقبول ہوگئی، اور دُوسرے کی قبول نہیں کی گئی“۔
علامہ اِبن کثیر رحمہ اللہ نے اِس آیت کے تحت حضرت اِبن عباس رَضی اللہ عنہ سے رِوایت نقل کی ہے کہ ہابیل نے مینڈھے کی قربانی کی اور قابیل نے کھیت کی پیداوار میں سے کچھ غلہ صدقہ کرکے قربانی پیش کی، اُس زمانے کے دستور کے موافق آسمانی آگ نازل ہوئی اور ہابیل کے مینڈھے کو کھا لیا، قابیل کی قربانی کو چھوڑ دِیا۔
اِس سے معلوم ہوا کہ قربانی کا عبادت ہونا حضرت آدَم علیہ السلام کے زمانے سے ہے اور اس کی حقیقت تقریباً ہرملت میں رہی؛ البتہ اس کی خاص شان اور پہچان حضرت اِبراہیم و حضرت اِسماعیل علیہما السلام کے واقعہ سے ہوئی، اور اسی کی یادگار کے طور پراُمتِ محمدیہ صاحب نصاب لوگوں پر قربانی کو واجب قرار دیا گیا۔ قربانی ذی الحجہ کے تین دنوں دس ، گیارہ اور بارہ میں سب سے افضل اعمال میں سے ہے اور بہتر تو یہ ہے کہ ہر ادمی قربانی اپنے گھر میں کرے اور خود سے ذبح بھی کرے لیکن چونکہ اس زمانے میں جانوروں کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے یا گھروں میں جانور کو پالنے کے لیے جگہ نہ ہونے کی وجہ سے یا دیگر وجوہات کی وجہ سے ہر آدمی کے لیے الگ قربانی کرنا اور اپنے گھر میں جانور لانا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے لیے اجتماعی قربانی کی ترتیب بنائی جاتی ہے اجتماعی قربانی سے ہر ادمی کے لیے قربانی کرنا آسان ہو جاتا ہے تو ہمارے ادارے جامعہ مدنیہ میں بھی کئی سالوں سے الحمدللہ یہ خدمت انجام دی جا رہی ہے ہر سال سو سے زائد جانور اجتماعی قربانی میں علمائے کرام کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے مطابق ذبح کیے جاتے ہیں اور انکا گوشت ان کے حقداروں تک پہنچایا جاتا ہے