زکوٰۃ کی ادائیگی کا آسان طریقہ
اسلام نے اپنے ماننے والوں پر جو فرائض عائد کیے ہیں، ان میں زکوٰۃ ایک نہایت اہم فریضہ ہے۔ زکوٰۃ صرف ایک مالی عبادت ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے درمیان محبت، تعاون اور معاشرتی عدل قائم کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟
وہ مسلمان جن کے پاس نصاب کے برابر مال موجود ہو اور وہ اس پر پورا سال گزر جائے، ان پر زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے۔ نصاب کی موجودہ قیمت سونا، چاندی یا ان کی مالیت کے حساب سے معلوم کی جاتی ہے۔
کن چیزوں پر زکوٰۃ فرض ہے؟
مندرجہ ذیل اثاثے زکوٰۃ کے قابل شمار ہوتے ہیں:
سونا (چاہے زیور کی شکل میں ہو یا سادہ حالت میں)۔
چاندی (چاہے برتنوں میں ہو یا زیورات کی صورت میں)۔
نقد رقوم (بینک میں رکھی ہوئی یا ہاتھ میں موجود)۔
تجارتی سامان (دوکانداروں یا کاروباری لوگوں کے پاس موجود مالِ تجارت)۔
شیئرز اور سرٹیفیکیٹس جن سے آمدنی یا منافع ملتا ہو۔
قرض کی رقوم (جو کسی کو دی ہوئی ہیں اور امید ہو کہ واپس مل جائیں گی)۔
انویسٹمنٹ فنڈز (جیسے NIT, NDFC, FEBC وغیرہ)۔
زکوٰۃ کیسے نکالیں؟
-
سب سے پہلے اپنے پاس موجود تمام قابلِ زکوٰۃ مال کی مالیت کا حساب کریں۔
-
پھر کل مالیت کا ڈھائی فیصد (2.5%) زکوٰۃ نکالیں۔
-
اس زکوٰۃ کو مستحقین تک پہنچائیں، جیسے غریب، مسکین، یتیم، بیوائیں وغیرہ۔
چند احتیاطیں
-
زکوٰۃ ہمیشہ حلال مال میں سے ادا کریں۔
-
زکوٰۃ کی ادائیگی جلد از جلد کر دیں تاکہ حق داروں تک ان کا حق پہنچ سکے۔