میرے اکابر مقالات

میرے اکابر

Admin
Admin
05 July 2025 5 min read 125 views

اکابر دار العلوم دیوبند کیا تھے؟

          اکابردیوبندکیاتھے؟اس کا جواب مختصرلفظوںمیں یوں بھی دیاجاسکتاہےکہ وہ خیرالقرون کی یادگار تھے۔ سلف صالحین کا نمونہ تھے۔ اسلامی مزاج و مذاق کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ لیکن ان مختصر جملوں کی تشریح تفصیل کرنے بیٹھیں تو ان کے لئے دفتر کے دفتر بھی ناکافی ہیں اورسچی بات تو یہ ہے کہ ان کی خصوصیات کوفظوں میں سمیٹنامشکل ہی نہیں تقریباً ناممکن ہے اس لئے کہ ان کی خصوصیات کا تعلق در حقیقت اس مزاج و مذاق سے ہے جو صحابہ کرام (رضوان اللہ علیم ) کی سیرتوں اور ان کے طرز زندگی سے مستنیر تھا اور مزاج و مذاق وہ چیز ہے جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن الفاظ کے ذریعے ٹھیک ٹھاک بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جس طرح گلاب کی خوشبو کو سونگھا تو جاسکتا ہے لیکن اس کی پوری کیفیت الفاظ میں ڈھالنا ممکن نہیں ۔ اسی طرح ان حضرات کے مزاج و مذاق کو ان کی صحبتوں اور انکے واقعات سے سمجھا جا سکتا ہے مگر اس کی منطقی تعبیر ناممکن ہے۔

           ا۔ بانی دارالعلوم دیو بند حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے علوم بحر نا پید کنار تھے ان کی تصانیف آب حیات،تقریر دل پذیر،قاسم العلوم اور مباحثہ شاہجہانپور وغیرہ سے ان کے مقام بلند کا کچھ انداز ہوتا ہے اور ان میں سے بعض تصانیف تو ایسی ہیں کہ اچھے اچھے علماء کی سمجھ میں نہیں آتی حد یہ ہے کہ ان کے ہم عصر بزرگ مولا نا محمد یعقوب صاحب نانوتوی کا یہ جملہ دار العلوم میں معروف تھا کہ:میں نے آب حیات کاچھ مرتبہ مطالعہ کیا ہے اب وہ کچھ کچھ سمجھ میں آئی ہے" اور حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی فرماتے ہیں کہ اب بھی مولانا نانوتوی کی تحریریں میری سمجھ میں نہیں آتیں اور زیادہ غور و خوض کی مشقت مجھ سے برداشت ہوتی نہیں اس لئے مستفید ہونے سے محروم رہتا ہوں اور اپنے دل کو یوں سمجھا لیتا ہوں کہ ضرورت کا علم حاصل کرنے کے لئے اور سہل سہل کتابیں موجود ہیں، پھر کیوں مشقت اٹھائی جائے۔

           ایسے وسیع و عمیق علم کے بعد بالخصوص اور جب اس پر عقلیات کا غلبہ ہوگا عموماًعلم وفضل کا زبردست پندار ہو جایا کرتا ہے لیکن حضرت نانوتوی کا حال یہ تھا کہ خود فرماتے ہیں: جس طرح صوفیوں میں بدنام ہوں اسی طرح مولویت کا دھبہ بھی مجھ پر لگا ہوا ہے اس لئے پھونک پھونک کر قدم کو رکھنا پڑتا ہے۔ اگر یہ مولویت کی قید نہ ہوتی تو قاسم کی خاک کا بھی پتہ نہ چلتا۔“

           چنانچہ ان کی بے نفسی کا عالم یہ تھا کہ بقول مولانا احمد حسن صاحب امروہویؒ حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ جس طالب علم میں تکبر دیکھتے تھے اس سے کبھی کبھی جوتے اٹھوایا کرتے تھے۔

          2۔ یہی حال حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ کا تھا۔ انہیں ان کے تفقہ کے مقام بلند کی بناء پر حضرت مولانا نانوتویؒ نے " ابو حنیفہ عصر" کا لقب دیا تھا۔ اور وہ اپنے عہد میں اس لقب سے مشہور تھے۔ حضرت علامہ انور شاہ صاحب کا شمیریؒ جیسے بلند پایہ محقق جو علامہ شامی کو فقیہ النفس کا مرتبہ دیتے کے لئے تیار نہ تھے۔ حضرت گنگوہی کو فقیہ النفس فرمایا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ واقعہ سناتے ہیں کہ: حضرت مولانا گنگوہی ایک مرتبہ حدیث کا سبق پڑھا رہے تھے کہ بارش آ گئی سب طلبہ کتابیں لے لے کر اندر کو بھاگے مگر مولانا سب کی جوتیاں جمع کر رہے تھے کہ اٹھا کر لے چلیں لوگوں نے یہ حالت دیکھی تو کٹ گئے ۔"

          -۳- شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب قدس سرہ کے علم و فضل کا کیا ٹھکانہ،لیکن حضرت تھانویؒ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ مراد آباد تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگوں نے وعظ کہنے کا اصرار کیا۔ مولانا نے عذر فر مایا کہ مجھے عادت نہیں ہے مگر لوگ نہ مانے تو اصرار پر وعظ کے لئے کھڑے ہو گئے اور حدیث پڑھی اور اس کا ترجمہ کیا کہ: ایک عالم شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے مجمع میں ایک مشہور عالم موجود تھے انہوں نے کھڑے ہو کر کہا: یہ ترجمہ غلط ہے اور جس کو ترجمہ کرنا بھی صحیح نہ آئے اس کو وعظ کہنا جائز نہیں۔

          " حضرت شیخ الہند کا جوابی رد عمل معلوم کرنے سے پہلے ہمیں چاہیے کہ تھوڑی دیر گریبان میں منہ ڈال کر سوچیں کہ ان کی جگہ ہم ہوتے تو کیا کرتے؟ صحیح ترجمہ تھا اور ان صاحب کا انداز بیان توہین آمیز ہی نہیں اشتعال انگیز بھی تھا۔ لیکن اس شیخ وقت کا طرز عمل سینے حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں کہ سن کر : مولانا فورا بیٹھ گئے اور فرمایا کہ میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ مجھے وعظ کی لیاقت نہیں مگر ان لوگوں نے مانا ہیں۔ خیر اب میرے پاس عذر کی بھی دلیل ہو گئی یعنی آپ کی شہادت چنانچہ وعظ تو پہلے ہی مرحلے پر ختم فرما دیا۔ اس کے بعد ان عالم صاحب سے بطرز استفادہ پو چھا کہ غلطی کیا ہے تا کہ آئندہ بچوں انہوں نے فرمایا کہ اَشَدُّ کا ترجمہ اَثقَل (زیادہ بھاری) نہیں بلکہ اَضَرُّ زیادہ نقصان دہ) کا آتا ہے، مولانا رحمتہ اللہ علیہ نے برجستہ فرمایا کہ حدیث وحی میں ہے ياتيني مثل صلصلة الجرس و هواشد علی الخ ( کبھی مجھ پر وحی گھنٹیوں کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہے ) کیا یہاں بھی اضر (زیادہ نقصان دہ) کے معنی میں ہے وہ صاحب دم بخودرہ گئے ۔

           ۴۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھا نویؒ جب کانپور میں مدرس تھے۔ انہوں نے مدرسہ کے جلسہ کے موقع پر اپنے استاد حضرت شیخ الہندؒ کو بھی مدعو کیا۔ کانپور میں بعض اہل علم معقولات کی مہارت میں معروف تھے۔ اور کچھ بدعات کی طرف بھی مائل تھے۔ ادھر علماء دیو بند کی زیادہ توجہ چونکہ خالص دینی علوم کی طرف رہتی تھی۔ اس لئے حضرات یہ سمجھتے تھے کہ علماء دیو بند کو معقولات میں کوئی درک نہیں ہے۔ حضرت تھانویؒ اس وقت نو جوان تھے اور ان کے دل میں حضرت شیخ الہندؒ کو مدعوکر نے کا ایک داعیہ یہ بھی تھا کہ یہاں حضرت کی تقریر ہوگی تو کانپور کے علماء کو پتہ چلے گا کہ علماء دیو بند کا علمی مقام کیا ہے۔ اور وہ منقولات و معقولات دونوں میں کیسی کامل دستگاہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ جلسہ منعقد ہوا اور حضرت شیخ الہند کی تقریر ہوئی حسن اتفاق سے تقریر کے دوران کوئی مسئلہ زیر بحث آگیا اس وقت تک وہ علماء جن کو حضرت تھانویؒ، شیخ الہندؒ کی تقریر سنانا چاہتے تھے وہ نہیں آئے تھے۔ جب حضرت کی تقریر شباب کو پہنچی اور اس معقول مسئلے کا انتہائی فاضل بیان ہونے لگا۔ تو وہ علماء تشریف لے آئے جن کا حضرت تھانویؒ کو انتظار تھا۔ حضرت تھانویؒ اس موقع پر بہت مسرور ہوئے کہ اب ان حضرات کو شیخ الہند کے علمی مقام کا اندازہ ہو گا۔ لیکن ہوا یہ کہ جونہی حضرت شیخ الہند نے ان علماء کو دیکھا تقریر کو مختصر کر کے فورا ختم کر دیا اور بیٹھ گئے۔ حضرت مولانا فخر الحسن صاحب گنگوہیؒ موجود تھے۔ انہوں نے تعجب سے پوچھا کہ

          ”حضرت اب تو تقریر کا اصل واقعہ آیا تھا آپ بیٹھ کیوں گئے؟ شیخ الہندؒ نے جواب دیا دراصل یہی خیال مجھے بھی آ گیا تھا۔“ حضرت علیکاواقعہ مشہور ہے کہ کسی یہودی نے ان کے سامنے آنحضرتﷺ کی شان میں گستاخی کر دی تھی تو وہ اس پر چڑھ دوڑنے اور اسے زمین پر گرا کر اس کے سینے پر سوار ہو گئے ۔ یہودی نے جب اپنے آپ کو بے بس پایا تو کھسیانا ہو کر اس نے حضرت علیکے روئے مبارک پر تھوک دیا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ حضرت علی اس کو چھوڑ کر فورا الگ ہو گئے اور پوچھنے پر بتایا کہ میں پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی بناء پر اس یہودی سے الجھا تھا اگر تھوکنے کے بعد کوئی اور کاروائی کرتا تو یہ اپنے نفس کی مدافعت ہوتی۔

          حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے اس عمل سے حضرت علی کی یہ سنت تازہ فرمادی۔ مطلب یہی تھا کہ اب تک تقریر نیک نیتی سے خالص اللہ کے لیے ہو رہی تھی۔ لیکن یہ خیال آنے کے بعد اپنا علم جتانے کے لئے ہوتی ۔ اس لئے اسے روک دیا۔

          مدرسہ معینیہ اجمیر کے معروف عالم حضرت مولا نا محمد معین الدین صاحبؒ معقولات کے مسلم عالم تھے۔ انہوں نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب قدس سرہ کی شہرت سن رکھی تھی۔ ملاقات کا اشتیاق پیدا ہوا۔ تو ایک مرتبہ دیو بند تشریف لائے اور حضرت شیخ الہند کے مکان پر پہنچ گئے۔ تو گرمی کا موسم تھا وہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو صرف بنیان اور تہبند پہنے ہوئے تھے۔ مولا نا معین الدین صاحبؒ نے ان سے اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ مجھے حضرت مولانا محمود حسن صاحب سے ملنا ہے۔ وہ صاحب بڑے تپاک سے مولانا اجمیریؒ کو اندر لے گئے آرام سے بٹھایا اور کہا کہ ابھی ملاقات ہو جاتی ہے مولانا اجمیریؒ منتظر ر ہے اتنے میں وہ شربت لے آئے اور مولاناؒ کو پلایا۔ اس کے بعد مولانا اجمیریؒ نے کہا کہ حضرت مولانامحمود حسن صاحب کو اطلاع کر دیجئے ان صاحب نے فرمایا کہ آپ بے فکر رہیں اور آرام سے تشریف رکھیں۔ تھوڑی دیر بعد وہ صاحب کھانا لے آئے اور کھانے پر اصرار کیا مولانا اجمیریؒ نے کہا میں مولانا محمود حسن صاحب سے ملنے آیا ہوں۔ آپ انہیں اطلاع کر دیں۔ ان صاحب نے فرمایا کہ انہیں اطلاع ہو گئی آپ کھانا تناول فرما لیں۔ ابھی ملاقات ہو جاتی ہے۔ مولانا اجمیری صاحبؒ نے کھانا کھایا تو ان صاحب نے انہیں پنکھا جھلنا شروع کر دیا۔ جب دیر گزرگئی تو مولانا اجمیری صاحبؒ برہم ہو گئے اور فرمایا کہ آپ میرا وقت ضائع کر رہے ہیں میں مولانا سے ملنے آیا تھا اور اتنی دیر ہو چکی ہے! ابھی تک آپ نے ان سے ملاقات نہیں کرائی اس پر وہ صاحب بولے کہ:

          "دراصل بات یہ ہے کہ یہاں مولا نا تو کوئی نہیں البتہ محمود خاکسارہی کا نام ہے۔" مولا نا معین الدین صاحبؒ ہکا بکا رہ گئے اور پتہ چل گیا کہ حضرت شیخ الہند صاحب کیا چیز ہیں۔

           4- امام العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ علم وفضل میں یکتائے روزگار تھے ۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ اپنی مجلس میں نقل کرتے ہیں کہ ایک عیسائی فیلسوف“ نے لکھا ہے کہ اسلام کی حقانیت کی ایک دلیل یہ ہے کہ غزالی جیسا محقق اور مدقق اسلام کو سمجھتا ہے"۔ یہ واقعہ بیان کر کے حکیم الامتؒ نے فرمایا ۔ میں کہتا ہوں کہ میرے زمانے میں مولانا انور شاہ صاحبؒ کا وجود اسلام کی حقانیت کی دلیل ہے کہ ایسا محقق اور مدقق عالم اسلام کو حق سمجھتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے۔

          انہی حضرت شاہ صاحبؒ ہی کا واقعہ حضرت مولانا محمد انوری صاحبؒ بیان فرماتے ہیں کہ مقدمہ بہاول پور کے موقع پر جب حضرت شاہ صاحبؒ نے قادیانیوں کے کفر پر ایک بے نظیر تقریر فرمائی اور اس میں یہ بھی فرمایا کہ:

          "جو چیز دین میں تواتر سے ثابت ہے اس کا منکر کافر ہے۔" تو قادیانیوں کے گواہ نے اس پر اعتراض کیا آپ کو چاہیے کہ امام رازیؒ پر کفر کا فتوی دیں کیونکہ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں علامہ بحر العلومؒ نے لکھا ہے کہ امام رازیؒ نے متواتر معنوی کا انکار کیا ہے۔“ اس وقت بڑے علماء مجمع میں تھے ۔ سب کو پریشانی ہوئی کہ فواتح الرحموت اس وقت پاس نہیں ہے۔ اس کا جواب کس طرح دیا جائے؟ مولانا محمد انوریؒ جو اس واقعے کے وقت موجودتھے وہ فرماتے ہیں ہمارے پاس اتفاق سے وہ کتاب نہ تھی۔ مولانا عبدالطیف صاحبؒ ناظم مظاہر العلوم سہارنپور اور مولا نا مرتضی حسن صاحبؒ حیران تھے کہ کیا جواب دیں گے۔

           لیکن اسی حیرانی کے عالم میں حضرت شاہ صاحب کی آواز گونجی: جج صاحب ! لکھیے میں نے بتیس سال ہوئے یہ کتاب دیکھی تھی، اب ہمارے پاس یہ کتاب نہیں ہے۔ امام رازی دراصل یہ فرماتے ہیں کہ لا تجمع امتى على الضلالة تو اتر معنوی کے رتبے کو نہیں پہنچتی،لہذاانہوں نے اس حدیث کے متواتر معنوی ہونے کا انکار فرمایا ہے نہ کہ تو اتر معنوی کے حجت ماننے کا۔ ان صاحب نے حوالہ پیش کرنے میں دھوکے سے کام لیا ہے ان سے کہو کہ عبارت پڑھیں ورنہ میں کتاب لے کر پڑھتا ہوں۔چنانچہ شاہد نے عبارت پڑھی واقعی اس کامفہوم یہی تھا جو حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا ،مجمع پر سکتہ طاری ہوگیا،اور حضرت شاہ صاحبؒ نےفرمایا:

          جج صاحب! یہ صاحب ہمیں مفہم ( لا جواب) کرنا چاہتے ہیں۔ میں کیونکہ طالب علم ہوں میں نے دو چار کتا ہیں دیکھ رکھی ہیں میں انشاء اللہ مفہم نہیں ہونے کا ۔

          " ایک طرف علم و فضل اور قوت حافظہ کا یہ محیر العقول کارنامہ دیکھیے کہ بتیس سال پہلے دیکھی ہوئی کتاب کا ایک جزوی حوالہ کتنی جزری کے ساتھ یاد رہا۔ دوسری طرف اس موقع پر کوئی اور ہوتا تو نہ جانے کتنے بلند و بانگ دعوے کرتا لیکن مولانا کے یہ الفاظ ملاحظہ فرمائیے کہ وہ تواضع کے کس مقام کی غمازی کر رہا ہے اور یہ محض لفظ ہی نہیں ہیں وہ واقعتا اپنے تمام کمالات کے باوجود اپنے آپ کو ایک معمولی طالب علم سمجھتے تھے اور اس دعاء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مظہر تھے کہ: اللهم اجعلنى فى عينى صغيرا و في اعين الناس كبيرا ۔

          حضرت مولانا محمد انوریؒ ہی راوی ہیں کہ ایک دفعہ شاہ صاحبؒ کشمیر تشریف لے جارہے تھے۔ بس کے انتظار میں سیالکوٹ کے اڈے پر تشریف فرما تھے۔ ایک پادری آیا اور کہنے لگا کہ آپ کے چہرے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ مسلمانوں کے بڑے عالم دین ہیں، فرمایا نہیں میں تو طالب علم ہوں۔ اس نے کہا آپ کو اسلام کے متعلق علم ہے۔ فرمایا کہ کچھ کچھ، پھر ان کی صلیب کے متعلق فرمایا کہ " تم غلط سمجھتے ہو اس کی یہ شکل نہیں ہے۔

           پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر چالیس دلائل دیئے، دس قرآن مجید سے،دس تورات سے،دس انجیل سے اور دس عقلی۔ وہ پادری ان کی تقریر سن کر کہنے لگا اگر مجھے اپنے مفادات کا خیال نہ ہوتا تو میں مسلمان ہو جاتا۔ نیز یہ کہ مجھے خود اپنے مذہب کے متعلق بہت سی باتیں آپ سے معلوم ہوئیں۔

 

 

سادگی اور مخلوق خدا کا خیال:

حضرت مولانا مظفر حسین کاندھلویؒ کا شمار بھی اکابردیوبندمیں ہےان کےعلم وفضل کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت شاہ محمد اسحاق صاحبؒ کے بلا واسطہ شاگرد اور حضرت شاہ عبدالغنی محدث دہلویؒ کے ہم سبق ہیں۔ وہ ایک مرتبہ کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ راستہ میں ایک بوڑ ھاملا جو بوجھ لیے جارہا تھا۔ بوجھ زیادہ تھا اور بمشکل چل رہا تھا۔ حضرت مولانا مظفر حسین صاحبؒ نے یہ حال دیکھا تو اس سے وہ بوجھ لے لیا اور جہاں وہ لے جانا چاہتا تھا وہاں پہنچا دیا۔ اس بوڑھے نے ان سے پوچھا! اجی تم کہاں رہتے ہو؟ انہوں نے کہا بھائی میں کاندھلہ میں رہتا ہوں۔ اس نے کہا وہاں مولوی مظفر حسینؒ بڑے ولی ہیں اور یہ کہ کر ان کی بڑی تعریف شروع کر دی مگر مولانا نے فرمایا: اور تو اس میں کوئی بات نہیں، ہاں نماز تو پڑھ لے ہے۔ اس نے کہا: واہ میاں تم ایسے بزرگ کو ایسا کہو؟ مولانا نے فرمایا میں ٹھیک کہتا ہوں ۔ وہ بوڑھا ان کے سر ہو گیا۔ اتنے میں ایک اور شخص آگیا جو مولانا کو جانتا تھا۔ اس نے بوڑھے سے کہا بھلے مانس مولانا مظفر حسین یہی ہیں۔ اس پر وہ بوڑھا مولانا سے لپٹ کر رونے لگا۔

          مولانا مرحومؒ کی عادت تھی کہ اشراق کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکلا کرتے تھے اور اپنے تمام رشتہ داروں کے گھر تشریف لے جاتے جس کسی کو بازار سے کچھ منگوانا ہوتا اس سے پوچھ کر لا دیتے اور طرہ یہ کہ اس زمانہ میں پیسے کم ہوتے تھے عموماً غلے کے عوض خرید و فروخت ہوتی تھی چنانچہ آپ گھروں سے غلہ باندھ کر لے جاتے تھے۔

          یہی حال دیو بند کے مفتی اعظم حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحبؒ کا تھا۔ علم و فضل کا تو یہ عالم کہ آج ان کی "عزیز الفتاوی" کتاب عہد حاضر کے تمام مفتیوں کے لئے ماخذ بنی ہوئی ہے اور فتوی کے ساتھ شغف کا یہ عالم کہ وفات کے وقت بھی ایک استفسار ہاتھ میں تھا جسے موت ہی نے ہاتھ سے چھڑا کر سینے پر ڈال دیا تھا۔ لیکن سادگی تواضع اور خدمت خلق کا یہ مقام کہ والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ یہ تحریر فرماتے تھے:

          کوئی کیسے سمجھے کہ یہ کوئی بڑے عالم یا صاحب کرامات صوفی اور صاحب نسبت شیخ ہیں۔ جبکہ غایت تواضع کا یہ عالم ہو کہ بازار کا سودا سلف نہ صرف اپنے گھر کا بلکہ محلے کی بیواؤں اور ضرورت مندوں کا بھی خود لاتے۔ بوجھ زیادہ ہو جاتا تو بغل میں گٹھری دبا لیتے اور پھر ہر ایک کے گھر کا سودا مع حساب کے اس کو پہنچاتے ۔“        شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحبؒ دار العلوم کے ان اساتذہ میں سے ہیں جن کے عشاق اب بھی شاید لاکھوں سے کم نہ ہوں گے ان کے رعب اور دبدبے کا یہ عالم تھا کہ طلباء ان کے نام سے تھراتے حالانکہ مارنے پیٹنے کا کوئی سوال نہ تھا۔ والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ بھی ان کے شاگرد ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے ساتھ ہم چند آدمی سفر پر روانہ ہوئے سفر کے آغاز میں مولانا نے فرمایا کہ مجھے امیر بنانا چاہتے ہوتو ٹھیک ہے مگر امیر کی اطاعت کرنا ہوگی۔ ہم نے کہا انشاء اللہ ضرور ہوگی ۔ اب جوروانگی ہوئی تو مولانا نے اپنا اور ساتھیوں کا سامان خود اٹھا لیا۔ ہم نے دوڑ کر سامان لینا چاہا تو فرمایا نہیں امیر کی اطاعت ضروری ہے۔ پھر سفر کے ہر مرحلے میں مشقت کا ہر کام خود کرنے کے لئے آگے بڑھتے اور کوئی کچھ بولتا تو اطاعت امیر کا حکم سناتے۔

          شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحبؒ کا معمول تھا کہ سارا دن تعلیم و تدریس کی محنت اٹھاتے اور اس کے باوجود رات کو دو بجے بیدار ہو جاتے اور فجر تک نوافل پڑھتے اور رمضان المبارک میں تو تمام رات جاگتے رہنے کا معمول تھا۔ حضرت کے یہاں تراویح سحری سے ذرا پہلے تک جاری رہتی تھی اور مختلف حفاظ کئی کئی پارے سناتے تھے یہاں تک حضرت کے پاؤں پر ورم آجاتا حق تعالیٰ شانہ ہمارے ان اکابر کے درجات بلند فرمائیں آمین

(پچاس جلیل القدر علماء،ص18تا25)

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمتہ اللہ علیہ والدماجدحضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا آبائی وطن دیو بند ہےجوضلع سہارنپوریوپی میں برصغیرکامشہورترین قصبہ ہے،یہیں آپ کی ولادت ساتھ میں شعبان کی تقریب میں تاریخ کوہوئی شمشی حساب سےیہ جنوری۱۸۹۷ءتھا۔آپ کےدادانےنام محمدمبین رکھاتھا لیکن آپ کےوالدبزرگوارنےولادت کی اطلاع کاخط اپنےشیخ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کولکھاتوحضرت گنگوہیؒ نے جواب میں نام محمد شفیع تجویز فرمایا،خط کےالفاظ یہ ہیں:تولدفرزند سےمسرت ہوئی،نام اس کا محمد شفیع رکھنا)

دیوبند:      

          دیوبندکیاہے؟اس کےمتعلق خودحضرت والدصاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنےرسالے"نقوش وتاثرات"میں فرماتےہیں:دیوبندکیاہے؟ایک چھوٹاساقصبہ سہارنپورکا،جس کونہ جغرافیائی اورعمرانی حیثیت سےکوئی خاص شہرت حاصل ہےنہ تجارتی یاصنعتی اعتبارسے،ہاںاس خوش نصیب خطہ زمین میں علوم اسلامیہ کاایک عظیم دارالعلوم ہےجو ہندوستان میں اسلامی حکومت کے سقوط کے بعد علوم اسلامیہ کو اپنی اصلی صورت میں باقی رکھنے کے لئے ایک گوشتہ خمول کی حیثیت میں قائم کیا گیا تھا،اللہ تعالی نےاس کو حسن قبول عطا فرمایا اور مرکز علوم بنادیا اور اس سے پیدا ہونے والے رجال اللہ اس آخری صدی کے مجدد ثابت ہوئے،اس طرح دیوبند اس دور انحطاط میں اسلام اور مسلمانوں کے لئے ایک پناہ گاہ بن گیا۔ دیو بند کا نام اسی دار العلوم سے چمکا اور دنیا کے ہر گوشے میں پہنچا۔ یہ ادارہ دن میں علوم اسلامیہ کی ایک درس گاہ تھی، اور رات میں ذاکر و شاغل حضرات کی خانقاہ ۔“

          آگے فرماتے ہیں: احقر نے اسی مبارک سرز مین پر آنکھ کھولی۔

بِلَادٌ   بِهَا حَلَّ  الشَّبَابُ تَمِيْمَتِي

وَ أَوَّلُ أَرْضِ مَسَّ جِلْدِي تُرَابُهَا

اسی میں بچپن سے پچپن تک کے تمام ادوار زندگی طے کئے،میرا وطن کہنےکوتودیوبندتھا لیکن درحقیقت اس کا بھی ایک گوشہ یعنی "دار العلوم تھا،اسی میں طفلانہ کھیل کود کا وقت گزرااوراسی میں چھبیس سال تعلیم اور فتوی کی خدمات انجام دی۔

بچپن:

حضرت والدصاحب رحمتہ اللہ علیہ نے بزرگان دین کے ساتھ والہانہ عقیدت ومحبت اپنے والد بزرگوار سے وراثت میں پائی تھی کھیل کودکی نوبت کم ہی آتی تھی،آپ کی عادت تھی کہ جب بھی موقع ملتا،اپنے والد بزرگوار کےساتھ اکابر علماء وصلحاء کی بابرکت مجلسوں میں جا بیٹھتے۔ شیخ الہندحضرت مولانامحمودالحسن صاحبؒ کی مجلس میں حاضری اکثر ہوا کرتی تھی ۔

بچپن کاایک واقعہ:

          والدصاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے بچپن کایہ واقعہ کئی بار مجلسوں اور مواعظ میں سنایا کہ ایک مرتبہ میں اور میرے رشتے کے بھائی عاقل صاحب سرکنڈوں سے کھیل رہے تھے،بھائی عاقل مجھ سے بڑے تھے انہوں نے میرے سارے سرکنڈے جیت لئے،مجھے اتنا شدیدغم ہوا کہ آج تک یاد ہے،ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مجھ سے زیادہ کوئی مظلوم نہیں،بالکل لٹ گیا ہوں۔ پھر فرمایا کہ آج وہ واقعہ یاد کر کے ہنسی آتی ہےکہ سر کنڈےجیسی حقیر چیزکی کتنی وقعت ومحبت دل میں تھی کہ سرکنڈے جیت لئےتومالامال،ہار گئے تو گویالٹ گئے، پھر فرمایا کہ آخرت میں بھی ہمارا یہی حال ہوگا کہ جنت کی نعمتوں کے سامنے دُنیا کی بڑی سے بڑی نعمتیں ہیچ نظر آ ئیں گی اور ہم اپنی اس نادانی پر ہنسا کریں گےکہ بھلادنیاکی حکومت واقتدار،مال ودولت، جائیداداورسازوسامان بھی اس قابل چیزیں تھیں کہ ہم ان کو دل میں ذرا بھی جگہ دیتے،ہم کیسے نادان تھے کہ ان کے لئے لڑتے جھگڑتے تھے۔(امداد المفتین ج1،ص63تا64،ط ادارۃ المعارف)

طلب علم میں انہماک:

          علمی ذوق آپ کی زندگی کے ہر شعبے پر ہمیشہ غالب رہا، زمانہ طالب علمی میں آپ جس انتہاک اور جانفشانی سے اپنے اسباق کی طرف ہمہ تن متوجہ رہے اس کی مثالیں دور حاضر میں نایاب ہیں۔ عربی تعلیم باقاعدہ شروع فرمانے کے وقت سے دار العلوم ہی گویا آپ کا گھر تھا،اسباق سے فارغ ہو کر اپنے ہم سبقوں کو روزانہ کے اسباق کااس طرح تکرار (اعادہ) کراتے تھے کہ استاذ کی تقریر کا پورا چربہ اتر جاتا تھا،آپ کا تکرار طلبہ میں بہت مقبول تھا،طلباء اتنی اہمیت سے اس تکرار میں شریک ہوتے کہ مستقل ایک درس کی سی صورت بن جاتی،حضرت نے ایک مرتبہ طلبہ دار العلوم کراچی کو جن میں راقم الحروف بھی موجود تھا،تکرار کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:

          میں مقامات کےتکرارمیں شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحبؒ کی پوری تقریرکااعادہ اس ترتیب سے کرتا تھا جس طرح استاذ محترم نے بیان کی تھی،بعض اوقات اُستاذ محترم میری لاعلمی میں میرا تکرار سنتے اور مجھے بعد میں پتہ چلتا کہ وہ سن کر بہت خوش ہوئے ہیں ۔ “

          اکثر صبح کودارالعلوم جا کررات ہی کوواپسی ہوتی اوربعض اوقات رات کوبھی وہیں مولسری کے درخت کے نیچے کھلے فرش پر سو جاتے۔ تکرار عموما رات کو ہوتا تھا اور جب گھر واپسی ہوتی تو کبھی رات کا ایک بج جاتا،کبھی دو۔ حضرت نے دار العلوم کراچی کے طلبہ کو ایک مرتبہ نصیحت کرتے ہوئےفرمایا کہ:

          " رات کو والدہ میرا انتظار کرتی تھیں کہ کھانا گرم کر کے دیں ، ان کے انتظار میں مجھے تکلیف ہوتی تھی،بڑی منت سماجت سے اس پر راضی کیا کہ میرا کھانا ایک جگہ رکھ دیا کریں۔ سردیوں کی راتوں میں شور بہ اوپر سے سے بالکل جم جاتا اور نیچے صرف پانی رہ جاتا،میں وہی کھا کرسوجایا کرتا" ۔

           دیو بند آپ کا وطن تھا اور تمام اعزہ واقارب کے گھر یہیں تھے لیکن طالب علمی میں ان کے یہاں جانے کا وقت بھی نہ ملتا،نہ محلے کے ہم عصر لڑکوں سے دوستانہ تعلقات کی نوبت آئی حتی ٰکہ آپ کودیوبندکےجوایک چھوٹاساقصبہ ہےتمام راستے بھی بخوبی معلوم نہ تھے تعلیمی انتہاک کے باعث کسی اور کام کی فرصت ہی نہ تھی،جب کچھ وقت ملتاحضرت شیخ الہندؒ کی خدمت میں جابیٹھتے،آپ کی ذہانت علمی ذوق وشوق اورصلاح وتقویٰ کےباعث آپ کے اساتذہ کی مشفقانہ توجہ ہمیشہ آپ پر مرکوز رہی۔

           ایک مرتبہ حضرت نانوتویؒ کے مخصوص شاگردومریداور مدرسہ عبدالرب دہلی کے بانی حضرت مولانا عبدالعلی صاحبؒ دار العلوم تشریف لائے،معزز مہمان اوردوسرےاساتذہ کرام کے ساتھ دارالعلوم کے اس وقت کےمہتمم حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحبؒ کھڑے تھے،قریب سے حضرت والد صاحبؒ بغل میں کتابیں دبائے گزرنے لگے تو مہتم صاحب نے بلالیا اورمعززمہمان سے فرمایا:

          "یہ دار العلوم کا ایسا طالب علم ہے کہ اسے اپنی کتابوں کے علاوہ کسی چیز کا ہوش نہیں،نہ اپنے کپڑوں کی خبر ہے،نہ جان کی، کتاب کا کوئی سوال پوچھو تو محققانہ جواب دے گا۔“

          مولانا عبد العلی صاحب نے دیکھتے ہی فرمایا: یہ تو مولوی محمد یٰسین صاحب کا لڑکا معلوم ہوتا ہے“ مولانا کا قیافہ مشہور تھا۔

          ایک مرتبہ شرح جامی کاامتحان شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد صاحب عثمانیؒ کے پاس تھا،اس وقت تک آپ نے کوئی کتاب مولانا سے نہیں پڑھی تھی تحریر سے نہ پہچان سکے،آپ کا نہایت ممتاز اور محققانہ پرچہ دیکھ کر حیرت ومسرت ضبط نہ کر سکے، پرچہ لے کر فورا مہتمم صاحب کے پاس آئے اور پوچھا یہ کون طالب علم ہے؟اس نے تو اس کتاب کی شرح تصنیف کر دی ہے۔ یہ سنتے ہی مہتمم صاحب فرط مسرت سے امتحان گاہ تشریف لائے،حضرت والد صاحبؒ اس وقت کسی اور امتحان کا پر چہ لکھ رہے تھے،آپ کو بلا کر تمام طلبہ کے سامنے کھڑا کیا اور آپ کے سر پر ہاتھ رکھ کر پرچے کی غیر معمولی خوبی کا اعلان فرمایا۔

(امداد المفتین ج1،ص67تا68،ط ادارۃ المعارف)

خدمت خلق اور بے نفسی کا ایک سبق آموز واقعہ:

                                      سردیوں کی  ایک رات میں والد صاحبؒ بذریعہ ریل تھانہ بھون اسٹیشن پر اترے،برانچ لائن پر یہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہےجس کا اسٹیشن بھی بہت چھوٹا اور آبادی سے کافی دور ہے،راستے میں کھیت اورغیرآبادزمینیں ہیں،وہاں اس زمانے میں بجلی توتھی ہی نہیں،رات کےوقت قلی یاسواری ملنے کا بھی امکان نہ تھا کیونکہ اس وقت اِکاّدُکاّہی کوئی مسافر آتا جاتا تھا۔ گاڑی دو تین منٹ رک کرروانہ ہوگئی،اب اسٹیشن پر ہُوکاعالم تھا،ہرطرف جنگل،اندھیری رات اورسناٹا۔ اسٹیشن سے قیام گاہ تک آمد ورفت عموماً پیادہ پا ہوتی تھی،والد صاحب تنہا تھے،سامان بھی ساتھ نہ تھا اس لئے کوئی فکرنہ تھی،اچانک آواز آئی'' قلی!قلی!" یہ آواز بار بار آ رہی تھی اور اب اس میں گھبراہٹ بھی شامل ہو گئی تھی،کوئی صاحب مع اہل وعیال اسی گاڑی سے اترے تھے،قلی نہیں مل رہا تھا جو آبادی تک سامان پہنچا دے،یہ والدصاحب کےایک واقف کار تھےاورعقیدت مندانہ ملتے تھے، والد صاحب سے اپنا بوجھ اٹھوانے پر ہرگز راضی نہ ہوتے یا عمر بھرندامت کے بوجھ میں دبے رہتے۔

          حضرت والدصاحبؒ فرماتے ہیں کہ میں نے جلدی سے سر پر رومال لپیٹ کراوپرسے چادر ڈالی اورمزدورانہ ہیئت میں تیزی سے پہنچ کر کہا: "سامان رکھواؤ کہاں جانا ہے؟انہوں نے پتہ مختصرًا بتاتے ہوئے میرے سر پر سامان لادنا شروع کردیا،پہلا بکس ہی اتنا بھاری تھاکہ میں نےکبھی نہ اٹھایاتھا،اس پردوسرا بکس رکھا،تیسرا عدد میرے ہاتھ اوربغل میں تھمانا چاہتے تھے،میں نے دونوں ہاتھوں سے بمشکل ان بکسوںکوسنبھالتے ہوئےکہا کہ:"حضور! میں کمزور آدمی ہوںزیادہ نہیں اُٹھا سکتا،یہ( تیسرا عدد )آپ سنبھال لیں۔

بمختصر قافلہ روانہ ہوا، بوجھ سے پاؤں ڈگمگا رہے تھے،مگر میری اس کمزوری کومیری ٹارچ نے چھپا لیا تھا جو انہیں راستہ دکھا رہی تھی اور میری طرف متوجہ ہونے کا موقع نہ دیتی تھی۔ ان کی قیام گاہ پر سامان اتارا،وہ یہ کہ کرذرا اندر گئے کہ ابھی آکر پیسے دیتے ہیں میں موقع پا کر وہاں سے غائب ہو گیا،اگلے دن وہ صاحب خانقاہ میں حسب سابق بڑی تعظیم سے ملے مگر انہیں کیا معلوم وہ ایک ” قلی“ سے مل رہے ہیں ۔

افشاء راز:

          یہ واقعہ والدصاحبؒ نےہمیشہ رازمیں رکھاحتی کہ جن صاحب کاسامان اٹھایا تھا انہیں بھی عمر بھرمعلوم نہ ہوسکا کہ وہ فرشتہ صفت "قلی" کون تھا؟ تقریباً بیس سال بعد ہم سب بھائیوں کے سامنے یہ راز اس طرح کھلا کہ کراچی میں جب احقر کی عمر تقریبا پندرہ سال تھی،اللہ تعالیٰ معاف فرمائے اس زمانے میں ہماری والدہ صاحبہ مدظلہا کوہم بھائیوں سےباربارشکایت پیش آئی کہ وہ گھر کا سودا سلف لانے کے لئےفرماتیں،ہم لڑکپن کی لاپروائی میں ایک دوسرے پر ٹال دیتے، والدہ ماجدہ کو اس سے جو تکلیف ہوتی ہوگی،اب اس کے تصور سے بھی ڈر لگتا ہے،انہوں نے کئی بارحضرت والدصاحبؒ کو بھی توجہ دلائی اورشکایت کی کہ یہ لوگ بازار سے سامان لانے میں عار سمجھتے ہیں،اس لئے ٹالتے ہیں،والدصاحبؒ چشم پوشی فرماتے رہے،آپ کی عادت تھی کہ کسی غلطی پرباربارنہیں ٹوکتےتھے،فہمائش کےلئےزیادہ سےزیادہ مؤثرموقع کاانتظارفرماتےاورایسےوقت تنبیہ فرماتے جب سب کو فراغت اورطبیعتوں میں نشاط ہو،ایک دن ہم سب حضرت والد صاحبؒ کی خدمت میں بیٹھے ادھرادھر کی باتیں کررہےتھے،ہماری کسی کسی بات میں وہ بھی دلچسپی لیتے رہے،پھر اچا نک سنجیدہ ہو گئے اور محترمہ والدہ صاحبہ کی مسلسل پریشانی کا ذکر فرما کہ ہماری اس بے پروائی پرشرم دلائی پھر آہِ سرد بھر کر فرمایا کہ اللہ تعالی کے ساتھ میرا ایک راز جو میرے اور اس کے سوا کسی کو معلوم نہ تھا،تمہاری اصلاح کے لئے آج اُسے کھولنے کی ضرورت پیش آگئی،پھریہ واقعہ سنایا،ہم سب پر اس کا بہت گہرا اثر ہوا اور بحمد اللہ اس گناہ سے توبہ کی توفیق ہوئی۔

ایسا ہی ایک اور واقعہ:

          اسی موقع پرایک اورواقعہ بھی سنایا کہ:

          "میں دیوبند میں ایک دن نماز فجر کے لئے جارہا تھا،سامنے ایک بہت ہی ضعیف بڑی بی کو دیکھاجو پانی کا گھڑا کنویں سے بھر کر لارہی تھیں،مگراٹھانادوبھرہورہاتھا،بمشکل چندقدم چل کرزمین پربیٹھ جاتی تھیں،مجھ سےدیکھانہ گیا،پاس جا کر کہا:"لاؤ اماں یہ گھڑا تمہارے گھر پہنچادوں یہ کہہ کرمیں نے گھڑا اُٹھالیا،وہ جولاہوں کے محلے میں رہتی اوراسی برادری سے تعلق رکھتی تھیں،جب میں گھڑا بڑی بی کے گھرمیں رکھ کرباہرنکلاتووہ نہایت لجاجت اور اِلحاح کےساتھ دُعا ئیں دینے لگیں جو مجھے کافی آگے تک سنائی دیتی رہیں،اگلے دن پھر اسی وقت اوراسی حال میں ملیں،میں نے گھڑا اُٹھا کر ان کے گھر پہنچا دیا، واپسی پر دور تک پھر ان کی دُعائیں سنتا رہا،میں نے یہ سوچ کر کہ یہ سودا تو بڑا سستا ہے کہ چند منٹ کی محنت پر اتنی دُعا ئیں ملتی ہیں، میں نےروز کا یہی معمول بنالیا۔ بڑی بی اس کی عادی ہو گئیں، اب میں کنویں پر ہی پہنچنے کی کوشش کرتا تھا تا کہ انہیں ڈول بھی کھینچنا نہ پڑے،بحمد اللہ یہ معمول عرصہ دراز تک جاری رہا،یہاں تک کہ بڑی بی نے ہی آنا چھوڑ دیا، شاید ان کا انتقال ہو گیا تھا۔“

پھر فرمایا کہ:

یہ واقعہ بھی آج پہلی بار تم ہی کو بتارہا ہوں تا کہ کچھ سبق حاصل کرو " حضرت والد صاحبؒ کی بےنفسی اور للّٰہیت،تواضع ومسکنت اور ایثاروفنائیت ہی وہ اصل دولت تھی جسےحضرت شیخ الہندؒکی صحبتوں نے نکھاراتھااوراب حکیم الامتؒ کی رہبری میں ان کی عملی مشق ہو رہی تھی،یہ تواضع اور عاجزی تا دمِ حیات جزو زندگی رہی۔

(امداد المفتین ج1،ص87تا89،ط ادارۃ المعارف)

بلا معاوضہ خدمت دین کا ارادہ:

          زمانہ طالب علمی سےآپ کا ارادہ تھا کہ خدمت دین بغیر کسی معاوضےکےمحض لوجہ اللہ کریں اورمعاش کےلئےکوئی دوسرا ذریعہ اختیارفرما ئیں،اس ارادےکےپیش نظرزمانہ طالبعلمی میں کئی دوسرے فنون بھی آپ نے حاصل کر لئے تھے۔

خطاطی اور جلد سازی:

          چنانچہ خطاطی اور کالی نویسی میں خوب مہارت تھی،بعض کتابیں آپ ہی کی کتابت سےطبع بھی ہوئیں،خط نسخ اورنستعلیق میں ماہرین فن آپ کے زورقلم کی تحسین کرتے تھے۔ اس مخلصانہ جذبے کے تحت جلد سازی میں بھی مہارت حاصل کی،اس زمانے میں اپنی کتابوں کی جلدبندی عام طور پرخودہی فرماتےتھے،راقم الحروف نے اپنے بچپن میں حضرت رحمتہ اللہ علیہ کےپاس ایک مطبوعہ کتاب ایسی دیکھی تھی جس کےمصنف بھی آپ تھے،کتابت بھی خود کی تھی اور غالباً جلد سازی بھی خود فرمائی تھی،افسوس کہ اس کتاب کا نام یاد نہیں رہا۔

طب یونانی:

          علمی خدمات کےمعاوضےسےمستغنی رہنےکےلئے دارالعلوم میں آپ نےطب یونانی کےنصاب کی بھی تکمیل فرمائی،اس فن میں آپ کےرفیق درس جناب حکیم محفوظ الحق صاحب مشہورحاذق طبیب ہوئےجن کوضلع سہارنپوراوراطراف میں نہایت کامیاب طبیب سمجھا جاتا تھا۔ ان دونوں حضرات نے" نفیسی " استاذ العلماء حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس اللہ سرہ سے اور " شرح اسباب مولانا حکیم محمد حسن صاحب برادرشیخ الہندؒ سے پڑھی لیکن حضرت والدماجدؒ فرمایا کرتے تھے کہ میرا یہ شوق باوجود کوشش کے پورا نہ ہو سکا کہ علم دین کی خدمت بغیر کسی معاوضے کے انجام دوں،اس لئے کہ جب تدریس و افتاء اور تصنیف و تبلیغ کا کام شروع کیا تو معلوم ہوا کہ ان علمی مشاغل کے ساتھ کوئی دوسرا مستقل کام نہیں کیاجاسکتا،علمی مصروفیات اتنی ہمہ گیرتھیں کہ کسی اور کام کے لئے وقت نکالنا ممکن نہ رہا۔ یہی بات امام مالک نے اپنے وسیع تجربہ کی بنا پر فرمائی تھی کہ "العلم لا يعطيك بعضه حتی تعطیه کلک" یعنی علم تمہیں اپنا ذرا ساحصہ بھی اس وقت تک نہیں دے گا جب تک تم اپنا سب کچھ اس کو نہ دے دو۔

قناعت اور علمی مشاغل:

           آخرمجبورہوکران تمام فنون کوجوذریعہ معاش کےلئےحاصل کئےتھےترک کرنا پڑااوریکسوئی کےساتھ تدریس وافتاء،تصنیف وتالیف اورتبلیغی خدمات میں ہمہ تن مشغول ہو گئے ۔ دارالعلوم ( دیوبند ) میں مالی وسائل کی قلت تھی،اساتذہ کرام کی تنخواہیں نہایت قلیل ہوتی تھیں،قارئین کوحیرت ہوگی کہ ابتداء دارالعلوم میں آپ کوصرف پانچ روپےماہواروظیفہ ملتاتھا،اسی پرقناعت فرمائی،پھررفتہ رفتہ مشاہرے میں تھوڑا تھوڑا اضافہ ہوا،جب آپ ۲۶ سال کی جلیل القدر خدمات کے بعددارالعلوم دیوبند سےمستعفی ہوئےتواس وقت بھی مشاہرہ صرف ۶۵ روپے تھا۔ اس عرصے میں دوسرے مدارس سے بڑی بڑی تنخواہوں پر بلانے کی مسلسل کوشش ہوتی رہی،مدرسہ عالیہ کلکتہ سےسات سو روپے مشاہرہ کی پیشکش باربارکی گئی،جہاں کام بھی دیوبند سےبہت کم تھا مگرپیش نظر تنخواہ کبھی نہ تھی۔ دیوبند کےقبیل پرقناعت کی،مادر علمی کوچھوڑنا پسند نہ فرمایا۔

(امداد المفتین ج1،ص80تا81،ط ادارۃ المعارف)

          حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب مہتم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ سے روایت کرتے ہیں کہ جس وقت دار العلوم دیوبند کی بنیاد میں پہلی اینٹ رکھنے کا مسئلہ آیا تو حضرت مولانا نانوتویؒ نے ارشاد فرمایا کہ پہلی اینٹ وہ رکھے گا جس کے دل میں کبھی گناہ کا ارادہ بھی نہ ہوا ہو اور فوراً ہی حضرت (عبد اللہ شاہ عرف) شاہ مُنَّا صاحبؒ کا نام پیش کر دیا جس کو سب نے پسند کیا۔(یہ حضرت مولانا سید اصغر حسین دیوبندیؒ کے نانا تھے۔

          مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا سید اصغر حسین صاحب رحمتہ اللہ علیہ جو دیوبند میں حضرت میاں صاحب کے لقب سے معروف تھے دار العلوم دیوبند کے درجہ علیاء کے استاذ تھے ان سے ابو داؤد پڑھنے والے اب بھی برصغیر میں ہزاروں افراد ہونگے،علوم قرآن و حدیث کے بہت بڑے ماہر اور جملہ علوم وفنون کے کامل محقق مگر بہت کم گو،حدیث کے درس میں نہایت مختصر مگر جامع تقریر ایسی ہوتی تھی کہ حدیث کا مفہوم دل میں اتر جائے اور شبہات خود بخود کافورہوجائیں دیوبندمیں آپ کامکان اورنشست گاہ کچی مٹی کی بنی ہوئی تھیں ہر سال برسات کے مواقع پر اس کی لپائی پتائی ناگزیر تھی جس میں کافی روپیہ اوروقت خرچ ہوتاتھاایک مرتبہ احقر نے حضرت سے عرض کیا کہ حضرت جتنا خرچ سالانہ اس کی لپائی پر کرتے ہیں اگر ایک مرتبہ پختہ اینٹوں سے بنانے میں خرچ کرڈالیں تودوتین سال میں یہ خرچ برابرہوجائےاورہمیشہ کے لئےاس محنت سےنجات ہو۔ یہ سن کر پہلےتوفرمایا ۔ ماشاء اللہ بات تو بہت عقل کی کہی ہے،ہم بوڑھے ہوگئےاِدھردھیان ہی نہ آیا ۔" پھر کچھ توقف کے بعد جو حقیقت حال تھی وہ بتائی اور تب پتہ چلا کہ یہ حضرات کسی مقام سے سوچتے تھےفرمایا کہ:'' میرے پڑوس میں سب غریبوں کے کچے مکان ہیں اگر میں اپنا مکان پکا بنوالوں توغریب پڑوسیوںکوحسرت ہوگی اوراتنی وسعت نہیں کہ سب کے سب مکان پے بنواؤں "

          اس وقت معلوم ہوا کہ یہ حضرات جو کچھ سوچتے ہیں وہاں تک ہر ایک کی رسائی نہیں ہوسکتی،چنانچہ انہوں نے اس وقت تک اپنے مکان کو پختہ نہیں کیا جب تک پڑوسیوں کے مکان پکے نہیں بن گئے۔

          اسی طرح ایک مرتبہ میں ان کے گھر حاضر ہوا تو انہوں نےآموں سےتواضع کی جب اۤم چوس کر فارغ ہو گئے تو میں گٹھلیوں سےاورچھلکوں سےبھری ہوئی ٹوکری اٹھاکرپھینکنےکےلئےچلا،حضرت نے دیکھا تو پو چھا یہ ٹوکری کہاں لے کر چلے ہو،میں نے عرض کیا، چھلکے باہر پھینکنے جا رہا ہوں ارشاد ہوا " پھینکنے آتے ہیں یانہیں"میں نے عرض کیا کہ حضرت!یہ چھلکےپھینکناکونساخصوصی فن ہےجسےسیکھنے کی ضرورت ہو،فرمایا " ہاں تم اس فن سے واقف نہیں لاؤ مجھے دو، خود ٹوکری اٹھا کر پہلے چھلکے گٹھلیوں سے الگ کئےاس کےبعدباہر تشریف لائےاورسڑک کےکنارےسےتھوڑےتھوڑےفاصلےسےمعین جگہوں پرچھلکےرکھ دیئےاورایک خاص جگہ گٹھلیاں ڈال دیں ۔ احقر کے استفسار پرارشاد ہوا:"کہ ہمارے مکان کے قریب،قُرب و جوار میں تمام غرباءومساکین رہتے ہیں زیادہ تر وہی لوگ ہیں جن کو نان جویں بھی مشکل ہی سے میسر آتی ہےاگروہ پھلوں کے چھلکے یکجا دیکھیں گےتوان کواپنی غریبی کا شدت سے احساس ہوگا اوربےمائیگی کی وجہ سےحسرت ہوگی اوراس ایذادہی کاباعث میں بنوں گااس لئےمتفرق کر کے ڈالتا ہوں اوروہ بھی ایسےمقامات پرجہاں جانوروں کےگلےگزرتے ہیں یہ چھلکے ان کے کام آجاتے ہیں اور گٹھلیاں ایسی جگہ رکھی ہیں جہاں بچے کھیلتے کودتے ہیں وہ ان گٹھلیوں کوبُھون کرکھا لیتے ہیں یہ چھلکےاورگٹھلیاں بھی بہر حال ایک نعمت ہیں ان کوبھی ضائع کرنا مناسب نہیں"

           یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنے کی ہے کہ حضرت تو خود شاید ہی کوئی کبھی آم چکھتے ہوں،عموماًمہمانوں ہی کے لئے ہوتے تھے اور محلے کے غریب بچوں کو بُلا بُلاکر کھلاتے تھے ۔

         

          ایک مرتبہ میرے والد ماجد (مفتی شفیع صاحب ؒ)ان کے گھر ملاقات کے لئے گئے ہوے تھے،کھانے کا وقت آگیا تو بیٹھک میں دسترخوان بچھا کر کھانا کھایا گیا،کھانے سے فارغ ہونے پروالدصاحب دسترخوان سمیٹنےلگے،تاکہ اسے کہیں جھٹک آئیں،حضرت میاں صاحب نے پوچھا،یہ آپ کیاکررہے ہیں ؟.. والد صاحب نے عرض کیا کہ ۔ حضرت دسترخوان سمیٹ رہا ہوں،تا کہ اسے کسی مناسب جگہ پر جھٹک دوں، میاں صاحب بولے کیا آپ کو دسترخوان سمیٹنا آتا ہے؟،والد صاحب نے کہا کہ”کیا دسترخوان سمیٹنا بھی کوئی فن ہے جسے سیکھنے کی ضرورت ہو؟، میاں صاحب نے جواب دیا : جی ہاں، یہ بھی ایک فن ہے،اور اسی لئے میں نے آپ سے پوچھا کہ آپ کو یہ کام آتا ہےیا نہیں؟ ۔ والد صاحب نے درخواست کی کہ حضرت ! پھر تو یہ فن ہمیں بھی سکھا دیجئے،میاں صاحب نے فرمایا کہ آئیے ! میں آپ کو یہ فن سکھاؤں۔

          یہ کہہ کر انہوں نے دستر خوان پر بچی ہوئی بوٹیاں الگ کیں، ہڈیوں کوالگ جمع کیا،روٹی کے جو بڑے ٹکڑے بچ گئے تھے،انہیں الگ رکھا،پھر روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جو برادے کی سی شکل میں پڑے رہ گئے تھے،انہیں چُن چُن کر الگ اکٹھا کر لیا،پھر فرمایا کہ"میں ان میں سے ہر چیز کی الگ جگہ مقرر کی ہوئی ہے،یہ بوٹیاں میں فلاں جگہ اٹھا کر رکھتا ہوں، وہاں روزانہ ایک بلی آتی ہے،اور یہ بوٹیاں کھا لیتی ہے،ان ہڈیوں کی الگ جگہ مقرر ہے،کتے کووہ جگہ معلوم ہے،اوروہ وہاں سے آکر یہ ہڈیاں اٹھالیتا ہے،اور روٹی کے یہ بڑے ٹکڑے میں فلاں جگہ رکھتا ہوں،وہاں پرندے آتے ہیں،اور یہ ٹکڑےان کے کام آجاتے ہیں،اور یہ جوروٹی کے بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں ۔ یہ میں چیونٹیوں کے کسی بل کے پاس رکھ دیتا ہوں، اور یہ انکی غذا بن جاتی ہے“اورپھر فرمایا کہ یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کا رزق ہیں،ان کا کوئی حصہ اپنے امکان کی حد تک ضائع نہیں ہو نا چاہئے "

           یہ تھا ایک حقیقی اسلامی معاشرے کا وہ مزاج ومذاق جو قرآن و سنت کے دلکش رنگ میں ڈھلا ہوا تھا،چونکہ اللہ تعالی نے ہمیں بے حساب رزق عطا فر مایا ہوا ہے،اس لئے اس کے چھوٹے چھوٹے اورتھوڑےتھوڑےحصوں کی ہمیں نہ صرف یہ کہ قدر نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات ہم اسکی بے حرمتی تک پر آمادہ ہو جاتے ہیں،لیکن اگر کسی وقت خدانخواستہ اسی رزق کی قلت پیدا ہوجائےتو پتہ چلے کہ ایک ایک ذرے کی کیا قدرو قیمت ہے؟

          کہنے کو سبھی یہ کہتے ہیں کہ رزق کو ضائع نہیں کرنا چاہئے،اسکی قدرکرنی چاہئے،لیکن ہماری آج کی زندگی میں یہ بات محض ایک نظریہ ہوکررہ گئی ہےجس کا عمل کی دنیا میں کوئی نشان نظر نہیں آتا،ہمارے گھروں میں دعوتوں کےمواقع پراور ہوٹلوں میں جتنا رزق روزانہ ضائع ہوتا ہے،اگر اس کا مجموعی اندازہ لگایا جائے تو یقیناً وہ سینکڑوں خاندانوں کاپیٹ بھرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے، لیکن حالت یہ ہے کہ جس ماحول میں نہ جانے کتنے گھرانے معمولی غذا کو ترس رہے ہوتے ہیں وہاں منوں کے حساب سے اعلی ترین غذائیں کوڑے کرکٹ میں پڑی نظر آتی ہیں۔

          میں اپنے احباب سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ ہر سنت کا پورا پورا اہتمام رکھیں اور کسی سنت کو خواہ وہ کتنی بھی چھوٹی سی ہو ۔ معمولی نہ سمجھیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ہر سنت اللہ تعالی کو محبوب ہے۔

(عارف باالله مولانا سید اصغر حسین دیوبندی)                                          (اکابر علماء دیوبندص133تا136)

تواضع اور خدمت خلق

          علم وعمل کےساتھ تواضع وکسرنفسی،اپنےکوچھپانا اورمٹاناآپ(مفتی عزیز الرحمن صاحبؒ) کا خاص رنگ تھا جو چھوٹی چھوٹی جزئیات تک میں نمایاں ہوتا تھا۔ روزانہ کا معمول تھا کہ بعد نماز عصر محلہ کے آس پاس کے گھروں کے دروازوں پر جا کر پوچھتے کہ بازار سے کسی کو کچھ سودا منگوانا ہوتوبتلادے گھروں سےآوازآتی مفتی جی مجھے چارپیسےکی مرچیں لادو،کہیں سے آواز آتی کہ تیل چاہیے کسی گھرے کہا جاتا کہ نمک درکارہے۔ حضرت ممدوح سب کےپیسےلےلیتے،اوربازارجاکرایک ایک کافرمائشی سوداخریدتےکسی کانمک،کسی کی مرچ،کسی کادھنیااوریہ سب سامان رومال کےالگ الگ کونوں میں باندھ کرخود ہی لاتے۔ یہ بھی گوارا نہ فرماتےکہ اس بوجھ کو کوئی بٹوائے۔ خود ہی یہ سامان اپنے کندھوں پر لادتے ۔ بعض اوقات بوجھ سے دوہرے ہوجاتےتھے۔ مگر کسی حالت میں گوارا نہ تھا کہ اسےدوسروں کےحوالےفرماکر کچھ ہلکے ہو جائیں۔ پھر خودہی گھر گھر جا کر یہ اشیاء فرمائش کنندوں کے سپرد فرماتے ۔ بےنفسی اورخدمت خلق کےمدعی ہزاروں نظر آئیں گےلیکن عمل اور وہ جزئیات عمل جس میں شواورنمودنشان نہ ہوکوئی جوانمردہوتو دِکھلائے لیکن خود ان کے پاک نفس میں اس کاتصور بھی نہ تھاکہ میں کوئی خدمت کر رہا ہوں،یا یہ کوئی بڑاعمل ہےجومیرےہاتھوں انجام پارہاہے یا میں کسرنفسی کاکوئی عظیم کارنامہ انجام دے رہا ہوں۔

          برسات میں بارہا دیکھاگیامحلہ کےمکانوں کی چھت ٹپکی اور محلہ دار بیبیوں نے کہلا بھیجا کہ" مفتی جی ذرا ہماری چھت دیکھ لو بہت ٹپک رہی ہےیہ سنتے ہی حضرت اقدسؒ لنگی باندھ کر بارش میں نکل کھڑے ہوتے اور محلہ والوں کے مکانات کی چھتوں پر بارش میں مٹی ڈالنے کی خدمت انتہائی ذوق شوق اور دردمندی کے ساتھ انجام دینا شروع فرما دیتے۔

          حضرت کی بے نفسی کا ایک واقعہ حضرت مفتی اعظمؒ کے مکان سے ملے ہوئے مکان میں ایک بڑی بوڑھی مقیم تھیں۔ جنہیں سب "اماں بی کہا کرتے تھے ۔ عمر میں حضرت ممدوح سے بہت بڑی تھیں۔ انہوں نے ایک دن کہا "عزیز الرحمٰن مکان کی چھت بہت خراب ہوگئی ہے۔ بارش میں ٹپکا اتنا لگا ہے کہ رات بھر ٹپکتے گزرگئی۔ مٹی ڈلوانے کا کوئی بندوبست کرادو فر مایا کہ بہت اچھا۔ چنانچہ مٹی منگوائی اور ان کے گھر میں ڈھیر کرا دی۔ اس پر کہنے لگیں کہ عزیز الرحمن مٹی تو آگئی مزدور کوئی نہیں کہ اسے چھت پر ڈلوادوں فرمایا اماں اس کا بھی بندوبست ہو جائے گا۔ اس بارش میں لنگی باندھ کر خود چھت پر چڑھے اور خودہی چھت پر مٹی ڈالنی شروع فرمائی۔ بارش میں بھیگتے ہوئے مٹی ڈالنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بخار آیا سخت تکلیف اٹھائی مگر اس بوڑھی اماں پر واضح نہ ہونےدیا کہ اس مٹی ڈالنے میں کون سے مزدور نے کام کیا اور اس محنت سے اس پر کیا گزری؟۔

غم آخرت:

          غم آخرت کا قلب پر تسلط یہ تھا کہ جلالین شریف کے درس میں ایک دن خودی یہ واقعہ ارشاد فرمایا کہ میں ایک شب سونے کے لئے لیٹا تو اچانک قلب میں یہ اشکال وارد ہوا کہ قرآن کریم نے تو یہ دعویٰ فرمایا ہے کہ( ليس للانسان الاماسعى)انسان کے کام اس کی سعی آئے گی۔ جس کا واضح نتیجہ یہ نکلتا ہےکہ آخرت میں کسی کےلئےغیر کی سعی کارآمد نہ ہوگی اور حدیث نبوی میں ایصال ثواب کی ترغیب آئی ہے۔ جس سے تخفیف عذاب،رفع عقاب اورترقی درجات کی صورتیں ممکن بتلائی گئی ہیں۔ نیز شفاعت انبیاء،وصلحاء، شفاعت حفاظ وشہداء سے رفع عذاب اور نجات اور ترقی درجات کا وعدہ دیا گیا ہے۔ جس سے صاف نمایاں ہے کہ آخرت میں غیر کی سعی بھی کارآمد ہوگی۔ پس یہ آیت وروایت میں کھلا تعارض ہے فرمایا کہ اس کا حل سوچتا رہا۔ مگر ذہن میں نہ آیا بالآخر سوچتے سوچتے یہ خوف قلب پر طاری ہوا کہ جب آیت وروایت میں یہ تعارض ذہن میں جاگزیں ہےاورحل ذہن میں نہیں ہے تو گویا اس آیت پر میرا ایمان سست اورمضمحل ہے اوراگر اس حالت میں موت آگئی تو میں قرآن کی ایک آیت میں خلجان اور ریب کی سی کیفت لے کر جاؤں گا اور ایسی حالت کے ساتھ حق تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گا کہ قرآن کے ایک حصہ پر میرا ایمان سست اورمضمحل ہوگا تومیرا انجام کیا ہوگا اور کیا اس خاتمہ کو حسن خاتمہ کہا جاسکے گا؟۔

 پیادہ پاراتوں رات گنگوہ:

          اس دھیان کے آتے ہی فکر آخرت اس شدت سے دامن گیر ہوا کہ میں اسی وقت چار پائی سے اٹھ کھڑا ہوا اور سیدھے گنگوہ کی راہ لی۔ مقصد یہ تھا کہ راتوں رات گنگوہ پہنچ کر حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ سے یہ اشکال حل کروں تاکہ میرا ایمان صحیح ہو اور حسن خاتمہ کی توقع بندھے۔ حالانکہ آپ پیدل چلنے کے عادی نہ تھے اور وہ بھی گنگوہ جیسے لمبے سفر کے جو دیو بند سے بائیس کوس کے فاصلہ پر ہے یعنی تقریبا تیس میل اور وہ بھی رات کے وقت لیکن جب کہ خوف آخرت نفس کا حال بن چکا تھا تو اس میں وساوس کی کہاں گنجائش تھی ۔ اس جذبہ سے یہ عزم پیدا ہوا اور اس عزم صادق سے اتنا لمبا سفر کرنے کے لئے اندھیری رات میں پیدل ہی چل کھڑے ہوئے ۔ صبح صادق سے پہلے گنگوہ پہنچے ۔ حضرت گنگوہی قدس سرہ تہجد کے لئے وضو فرمارہے تھے کہ حضرت مفتی اعظم نے سلام کیا۔ فرمایا کون؟ عرض کیا کہ عزیز الرحمٰن۔ فرمایاتم اس وقت کہاں؟ عرض کیا کہ حضرت ایک علمی اشکال لے کر حاضر ہوا ہوں۔ جس میں مبتلا ہوں اور یہ کہ قرآن تو نفع آخرت کو صرف اپنی ذاتی سعی میں منحصر بتلا رہا ہے۔ جس سے غیر کی سعی کے نافع ہونے کی نفی نکل رہی ہے اور حدیث غیر کی سعی کو نافع اور مؤثر بتلا رہی ہے۔ جس میں نفع آخرت ذاتی سعی میں منحصر نہیں رہتا جو صراحۃً قرآن کا معارضہ ہے تو ذہن میں اس تعارض کا حل نہیں آتا ۔ حضرت نے وضو کرتے ہوئے برجستہ فرمایا کہ آیت میں سعی ایمانی مراد ہے جو آخرت میں غیر کے کار آمد نہیں ہوسکتی کہ ایمان تو کسی کا ہو اور نجات کسی کی ہو جائے اور حدیث میں سعی عملی مراد ہے جو ایک کی دوسرے کے کام آسکتی ہے۔ اس لئے کوئی تعارض نہیں ۔" فرمایا کہ ایک دم میری آنکھ کھل گئی۔ جیسے کوئی پردہ آنکھ کے سامنےسے اٹھ گیا ہواورعلم کا ایک عظیم دروازہ کھل گیا۔ بہر حال علم کا جو دروازہ اس مفتی اعظم پر کھلا وہ تو ان ہی کی ذات جان سکتی تھی کہ اس دروازہ کے اندر کیا کیا نوادرات پنہاں ہیں۔ غور کرنے کے قابل یہ عظیم جذبہ ہے کہ ایک جزوی مسئلہ کے ایک علمی اشکال پر اس درجہ خوف آخرت کا قلب پر مسلط ہوجانا کہ چارپائی پر ایک لمحہ کے لئے قرار نہ رہے اور ۳۰ میل کے لمبےاوردشوارگزارسفر کی ٹھان لی جائےاوروہ سفربھی راتوں رات ہی شروع کردیا جائے۔ یہ عالم آخرت سے کس درجہ قلبی لگن اور دنیائے فانی اور اس کی راحت و لذت سے کس قدر بے تعلقی اور استغناء کی نادر مثال ہے جوا کابرسلف ہی کی

تاریخوں میں مل سکتی ہے۔ بہر حال علم اور افتاء جیسے علمی مقام پراتنا اونچا پہنچ کر بھی اپنے علم ومنصب کی عظمت کا کوئی تصور ذہن میں نہ آنا تواضع اورکسرنفسی کا انتہائی مقام ہے۔ ان اونچے مقامات کے لئے اول تو آپ کی فطرت صالحہ ہی مستعد تھی۔ جس کوحق تعالی نے ان ہی احوال ومقامات کے لئےمنتخب فرما لیاتھااوپر سے آپ کے مربی اعظم حضرت مولا نارفیع الدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ مہتم ثانی دارالعلوم دیو بند کی مخصوص توجہات نے اس پر اور چار چاند لگا دیے تھے۔

(فتاوی دارالعلوم دیوبند،ج1،ص29تا34)

اس فتوی کی کوئی فائل موجود نہیں ہے۔
Admin

Admin

Manager at HAT INC

Leave a Reply

تبصرہ کریں

تبصرے کی نگرانی کی جاتی ہے اور ظاہر ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔

تبصرے

No comments yet. Be the first to comment!

اس فتوی کی کوئی فائل موجود نہیں ہے۔

Popular Tags

Follow Us

Loading...